نئی دہلی،16 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کی گزشتہ سال کے اس سرکلر کو منسوخ کر دیا ہے جس میں پرائیویٹ اسکولس کو فیس بڑھانے پر روک لگا دی گئی تھی۔ہائی کورٹ کی طرف سے اس سرکلر کو منسوخ کرنے کے بعد دہلی کے 400 سے زیادہ نجی اسکولوں میں فیس اضافہ کا راستہ صاف ہو گیا ہے،اس کے علاوہ پرائیویٹ اسکول گزشتہ سیشن 2017۔18 کی بڑھی ہوئی فیس بھی والدین سے وصول کے لئے بھی آزاد ہوں گے۔اپنے حکم میں ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کے ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے گزشتہ سال کے 13 اپریل کے اس سرکلر کو منسوخ کر دیا ہے جس میں فیس اضافہ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد دہلی حکومت نے اب یہ صاف نہیں کیا ہے کہ وہ اس حکم کو ڈبل بنچ میں چیلنج کرے گی یا نہیں۔دہلی کے 400 سے زیادہ پرائیویٹ اسکولوں نے 7 ویں پے کمیشن کی سفارشات لاگو کرنے کی بات کہہ کر والدین سے گزشتہ سال جو فیس وصولی تھی، اب ہائی کورٹ سے آئے حکم کے بعد وہ بھی نہیں لوٹانی ہوگی۔ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ نے گزشتہ سال 13 اپریل کو سرکلر جاری کیا تھا کہ پرائیویٹ اسکولوں کو ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات لاگو کرنے کے لئے فیس بڑھانے سے روکا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ تعلیم ڈائریکٹوریٹ نے پرائیویٹ اسکولوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ بڑھا لی گئی فیس والدین کو واپس کر دے۔دہلی حکومت کے اس حکم کے خلاف 400 پرائیویٹ اسکولوں کی تنظیموں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا،جس پر انہیں کورٹ سے گزشتہ سال مئی میں ہی عبوری راحت مل گئی تھی اور ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کے اس حکم کے نفاذ سے اس وقت تک کے لئے روک دیا تھا، جب تک وہ اس پر اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔ہائی کورٹ نے اسکول ایکشن کمیٹی کی اس دلیل کو بھی مان لیا ہے جس میں وہ فیس اضافہ تعلیم ڈائریکٹوریٹ کے 17 اکتوبر 2017 میں جاری کی گئی ہدایات کی بنیاد پر کر سکتے ہیں،اس کی بنیاد پر تعلیم ڈائریکٹوریٹ نے غیر مدد والے تسلیم شدی پرائیویٹ اسکولوں کو ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات لاگو کرنے کے لئے ہدایات جاری کی گئی تھی،2017 میں محکمہ تعلیم نے تین احکامات میں فیس بڑھانے کی منظوری دی تھی۔